ابنا: ایک ایسے وقت میں کہ جب امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد نئے سال اور کرسمس کے جشن منا رہی ہے، ان ہی ایام میں تیرہ لاکھ امریکیوں کا ہنگامی بےروزگاری الاؤنس ختم کر دیا جائے گا۔ اس فیصلے پر عمل درآمد سے بےروزگاری الاؤنس پر گزارا کرنے والے کئي لاکھ امریکی خاندانوں کو سنگين مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب کچھ عرصہ قبل تقریبا پچاس لاکھ امریکی شہریوں کے غذائی کوپن بھی بند کر دیے گئے تھے اور اوباما کیئر بل کے منظور ہونے سے میڈیکل انشورنس نہ رکھنے والے افراد کی تعداد میں بھی اضافہ ہونے کا خطرہ ہے۔بہرحال سال دو ہزار تیرہ ختم ہونے میں اب چند ہی روز باقی رہ گئے ہیں یہ سال امریکہ کے غریب اور کم آمدنی والے افراد کے لیے بہت ہی سخت سال تھا۔ جبکہ پارٹیوں کی محاذ آرائي اور حکومت کی آمدنی میں شدید کمی کی وجہ سے امریکی فیڈرل حکومت کی سرگرمیاں سولہ روز تک بند رہیں۔ جس کے باعث امریکہ کی ساکھ اور اقتصاد کو سنگین پہنچا اور امریکی حکام مالی بچت اور عمومی اخراجات کم کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اسی سلسلے میں امریکی کانگرس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے پارلیمانی سربراہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بعض عمومی اخراجات کو کم کریں گے تاکہ دو ہزار چودہ میں فیڈرل حکومت کے دوبارہ شٹ ڈاؤن کے امکان کو روکا جا سکے۔ اس بنا پر دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ بےروزگاری الاؤنس کے بجٹ میں کمی کریں گے کہ جس کے نتیجے میں امریکہ کے تیرہ لاکھ افراد کا بے روزگاری الاؤنس ختم ہو جائے گا۔اس وقت امریکی حکومت پر اپنے رفاہی پروگراموں پر عمل درآمد اور غریب اور ضرورت مند افراد کے سلسلے میں اپنے وعدوں پر عمل کے لیے سخت دباؤ ہے۔ ایک طرف تو فیڈرل حکومت کا خزانہ تقریبا خالی ہے اور حکومت کو ملکی اور غیرملکی مالیاتی ذرائع سے قرض حاصل کر کے اپنے عمومی اخراجات کو پورا کرنا پڑے گا جبکہ دوسری طرف ریپبلکن ارکان کہ جن کا کانگرس پر کنٹرول ہے، اخراجات کم کرنے اور بچت کے لیے وائٹ ہاؤس پر مسلسل دباؤ ڈالے ہوئے ہیں۔ امریکی کنزرویٹوز کی نظر میں طویل مدت تک بےروزگاری الاؤنس دینے سے لوگوں میں کام نہ کرنے کی عادت پیدا ہوتی ہے اور ٹیکس دہندگان کا پیسہ بھی برباد ہوتا ہے۔ اسی بنا پر ریپبلکن ارکان نے دو ہزار تیرہ میں کہ جب حکومت کا مالی بحران اپنے عروج پر تھا، بےروزگاری الاؤنس اور غذائی کوپن جیسے بعض رفاہی پروگراموں کا بجٹ ختم یا کم کرنے پر زور دیا تھا۔ ڈیموکریٹک ارکان نے بھی ریپبلکن کے ساتھ بجٹ کے سلسلے میں مصالحت تک پہنچنے کے لیے رفاہی پروگراموں کے بجٹ میں کٹوتی کی تجویز قبول کر لی۔ البتہ ڈیموکرٹس کو امید ہے کہ وہ ریپبلکن ارکان کو اس سلسلے میں قصوروار ٹھہرا کر آئندہ سال نومبر میں ہونے والے انتخابات میں کامیابی حاصل کر لیں گے اور ہو سکتا ہے کہ کانگرس پر حریف پارٹی کا کنٹرول ختم کر دیں۔بہرحال وجوہات چاہے جو بھی ہوں امریکہ کے غریب اور نادار افراد نے دو ہزار تیرہ کا کرسمس بری خبروں سے شروع کیا ہے اس کے باوجود کہ ہر سال ان دنوں میں نئے سال کی خریداری کی لہر شروع ہو جاتی ہے اور دولت مند اور متوسط طبقہ اپنی ضروری اور غیرضروری چیزوں کی خریداری پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے جبکہ غریب اور نچلے طبقے کے افراد کو بہت سوچ سمجھ کر خریداری کرنا ہو گي کیونکہ اب انہیں حکومت کی طرف سے جو امداد ملتی تھی، وہ اب نہیں ملے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
25 دسمبر 2013 - 20:30
News ID: 490364
امریکی کنزرویٹوز کی نظر میں طویل مدت تک بےروزگاری الاؤنس دینے سے لوگوں میں کام نہ کرنے کی عادت پیدا ہوتی ہے اور ٹیکس دہندگان کا پیسہ بھی برباد ہوتا ہے۔ اسی بنا پر ریپبلکن ارکان نے دو ہزار تیرہ میں کہ جب حکومت کا مالی بحران اپنے عروج پر تھا، بےروزگاری الاؤنس اور غذائی کوپن جیسے بعض رفاہی پروگراموں کا بجٹ ختم یا کم کرنے پر زور دیا تھا۔